شیموگہ، 2؍ مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کے بیان کے ایک دن بعد کہ ان کی حکومت ’حلال‘ گوشت کے خلاف اٹھائے گئے ’’سنگین اعتراض‘‘ پر غور کرے گی، کچھ بجرنگ دل کارکنوں نے مبینہ طور پر جمعرات کو بھدراوتی میں ایک مسلم دکاندار پر حملہ کردیا۔شیموگہ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) بی ایم لکشمی پرساد نے بتایا کہ متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے بجرنگ دل کارکنوں نے دکاندار سے بحث کی اور پھر اس پر حملہ کردیا۔ بھدراوتی کے ہوسمانے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔
پولیس نے بتایا کہ جمعرات کی دوپہر 12.30 بجے کے قریب بجرنگ دل کے کچھ کارکن حلال گوشت کے خلاف ہوسمانے علاقہ میں مہم چلا رہے تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر ایک گوشت کی دکان پر مسلم شخص توصیف کو دھمکی دی تھی۔
پولیس میں کی گئی شکایت کے مطابق کارکنوں نے اسے اپنی چکن شاپ پر غیر حلال گوشت فروخت کرنے کو کہا۔ اس نے کہاکہ ایسا گوشت تیار نہیں ہے وہ اس کا بندوبست کردے گا۔ اس سے مشتعل ہوکر کارکنوں نے مبینہ طورپر اس کی پٹائی کردی۔ پولیس نے بتایاکہ شکایت کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی اور دائیں بازو کے پانچ کارکنوں سے پوچھ تاچھ کی ہے۔
فرقہ وارانہ طور پر حساس شیموگہ ضلع میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے بجرنگ دل کارکنوں کے خلاف پرانی بھدراوتی میں ایک ہوٹل والے کو حرام گوشت پیش نہ کرنے پر مبینہ طور پر دھمکیاں دینے اور بدسلوکی کرنے کا مقدمہ درج کیا۔ ہوٹل والے سے بدسلوکی کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بومئی نے چہارشنبہ کو کہا تھا کہ حکومت حلال گوشت کے معاملہ پر غور کرے گی کیونکہ اب اس کے خلاف سنگین اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ بومئی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حلال کا مسئلہ ابھی شروع ہوا ہے۔ ہمیں اس کا جائزہ لینا ہے۔ یہ ایک پریکٹس ہے جو چل رہی ہے۔ اب اس پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ میں اس پر غور کروں گا۔
کچھ دائیں بازو کی تنظیموں کی طرف سے حلال گوشت کے بائیکاٹ کی کال کے بارے میں پوچھے جانے پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بومئی نے کہا تھا کہ جہاں تک میری حکومت کا تعلق ہے، ہم دائیں بازو یا بائیں بازو کے نہیں صرف گروتھ ونگ ہیں۔